ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / پاکستان:مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 مارچ سے 15 اپریل تک

پاکستان:مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 مارچ سے 15 اپریل تک

Mon, 13 Mar 2017 02:33:04    S.O. News Service

اسلام آباد:12/مارچ(ایس  او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستان کی وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مردم شماری کا پہلا مرحلہ 15 مارچ کو شروع ہوگا اور 15 اپریل کو مکمل کر لیا جائے گا۔خیال رہے کہ یہ پاکستان کی 70 سالہ تاریخ کی چٹھی مردم شماری ہوگی جو 19 سال کے وقفے کے بعد ہو رہی ہے۔وفاقی وزیرِ مملکت نے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے ہمراہ اسلام آباد میں اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہویے بتایا کہ ’مردم شماری کا بجٹ ساڑھے اٹھارہ ارب ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ مردم شماری کا 15 مارچ سے 15 اپریل تک پہلا مرحلہ مکمل ہوگا، دس دن کے وقفے کے بعد دوسرا مرحلہ 25 اپریل سے 25 مئی تک چلنے کے بعد ختم ہوگا۔‘ملک میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کو بھی مردم شماری میں شامل کیا جائے گا۔'مریم اورنگزیب نے بتایا کہ مردم شماری کے عمل میں سکیورٹی کے لیے فوج کی معاونت بھی موجود ہوگی اور تمام صوبوں میں ایک ہی وقت میں مردم شماری کا عمل ہوگا۔مردم شماری میں ایک لاکھ 18 ہزار نو سو 1اٹھارہ سرکاری ملازمین حصہ لیں گے اور اس کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔مردم شماری میں شامل پاکستانیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہر بندہ جو پاکستان کا شہری ہے اسے اس میں شامل کیا جائے گا، دوہری شہریت والے جو لوگ اس دوران پاکستان میں موجود ہوں گے انھیں بھی شامل کیا جائے گا۔‘انھوں نے مزید بتایا کہ سفارتکاروں کا ڈیٹا بھی وزارتِ خارجہ سے لیا جائے گا۔ہر بندہ جو پاکستان کا شہری ہے اسے اس میں شامل کیا جائے گا، دوہری شہریت والے جو لوگ اس دوران پاکستان میں موجود ہوں گے انھیں بھی شامل کیا جائے گا۔’بے گھر افراد کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جائے گا۔ اور ملک میں پہلی مرتبہ خواجہ سراؤں کو بھی مردم شماری میں شامل کیا جائے گا۔‘وزیرِ مملکت نے بتایا کہ کسی بھی قسم کی مزید معلومات کے لیے ہیلپ لائن کے نمبر 080057574 پر کال کر سکتے ہیں۔اس موقع پر آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ 1998 میں مردم شماری ایک مرحلے میں ہوئی تھی اور 19 دن تک جاری رہی تھی تاہم سکیورٹی کی صورتحال دیکھتے ہوئے اس مرتبہ دو مرحلوں میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔’دو لاکھ سپیاہوں کی تعیناتی کے ساتھ ہم نے سپورٹ پروگرام مرتب کیا ہے، جب یہ فیصلہ ہوا تو آرمی چیف نے کہا کہ ہر قسم کی معاونت دی جائے۔‘انھوں نے بتایا کہ’فوج کی تیاری ہے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی تیار ہیں۔‘آئی ڈی پیز کے بارے میں بتاتے ہوئے فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 84 فیصد سے زیادہ واپس اپنے علاقوں میں جا چکے ہیں اور جو بھی اپنے علاقے چھوڑ کر باہر گئے تھے وہ تمام آئی ڈی پیز رجسٹرڈ ہیں اور اس لیے ان کے اپنے علاقوں سے باہر ہونے کی وجہ سے کوئی مسئلہ نہیں گا۔


Share: